مقبوضہ بیت المقدس: امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ 2019 کےآخر تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا جائے گا۔
اسرائیل میں صہیونی پارلیمنٹ سے خطاب کے دوران امریکی صدر نے کہا کہ ہم فلسطینی قیادت سے استدعا کرتے ہیں کہ مذاکرات کی میز پر دوبارہ آئیں۔ امن صرف مذاکرات کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ 2019 کے آخر تک امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کردیا جائے گا۔
تقریر کے دوران اسرائیلی پارلیمان کے عرب ممبران نے ’یروشلم فلسطین کا دارالحکومت‘ کے بینرز کے ساتھ احتجاج کیا جس کے باعث امریکی نائب صدر کو تقریر روکنی پڑغئی، انہوں نے کہا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ میں جمہوری نظام سے خطاب کر رہا ہوں۔
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس امریکی نائب صدر سے ملاقات کے بجائے برسلز روانہ ہوگئے جہاں انھوں نے یورپی یونین سے استدعا کی کہ فلسطین کو خودمختار ریاست کو تسلیم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات رکاوٹ ہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے بعد تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل کو عمل شکل دینے کی راہ ہموار ہوگی اور اسرائیل پر بھی دباؤ بڑھے گا۔
The post 2019 تک امریکی سفارتخانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کردیں گے، امریکا appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2n1MtdI
No comments:
Post a Comment