’’جو سیکھ رہا ہے وہ زندہ ہے، جس نے سیکھنا بند کیا وہ زندہ لاش ہے۔‘‘ یہ الفاظ میری دوست نے اپنے فیس بک اسٹیٹس پر پوسٹ کیے تھے جس کے بعد مجھ میں اس بات کی جستجو ہوئی کہ ہماری زندگی میں کیا صرف قدرت ہی کے خزانوں میں سیکھنے کے راز پوشیدہ ہیں یا انسانی تخلیق بھی ہمیں کچھ سکھا سکتی ہے۔ اسی اثناء میں اپنے اردگرد رکھی مختلف چیزوں کا بغور جائزہ لینا شروع کیا تو کمرے کے کونے میں پڑے اپنے جوتے کی جوڑی پر نظریں منجمد ہوئی اور سوالوں کا انبار ذہن میں گردش کرنے لگا۔
کیا واقعی ان جوتوں سے کچھ سیکھا جاسکتا ہے؟ ایک پل کےلیے ذہن نے نفی میں سر ہلایا، لیکن پھر کچھ لمحہ ٹھہر کر سوچا اور خود سے سرگوشی کی ’’ہاں یہ بالکل ممکن ہے کہ ہم اپنے ہی جوتوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں اور اپنی زندگی کو بہتر بناسکتے ہیں، بشرطیکہ ہم میں سیکھنے کی لگن ہو۔‘‘
اکثر اوقات ہم اپنی زندگی میں پیش آنے والے چھوٹے بڑے معاملات میں یوں الجھ جاتے ہیں گویا اس الجھن کا حل ہی نہ ہو، جس کے باعث خود کو اور خود سے منسلک لوگوں کو بھی مسلسل پریشانی میں مبتلا رکھتے ہیں۔ کبھی آپ نے غور کیا کہ جوتے میں لگی معمولی سی لیس ہی جوتے کی گرفت کو ڈھیلا یا مضبوط کرنے کےلیے استعمال ہوتی ہے۔ ایسا ہی ہم اپنی زندگیوں میں آنے والے اتار چڑھاؤ میں کبھی مضبوط رہ کر تو کبھی ڈھیل دے کر تمام معاملات پر قابو پاسکتے ہیں، جس سے نہ صرف اپنی زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں بلکہ خود سے منسلک لوگوں کو بھی خوش رکھنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب آپ کے لہجے میں لچک کا عنصر غالب ہو۔
جب ہم کسی کام میں کامیابی سے ہمکنار ہوتے ہیں تو اکثر اس کامیابی کے بَل پر مغرور بن جاتے ہیں۔ جوتوں سے ہمیں ’’ڈاؤن ٹو ارتھ‘‘ رہنے کا سبق ملتا ہے۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ بالکل ممکن ہے! جس طرح جوتا مہنگا ہو یا سستا، وہ پاؤں کی ہی زینت بنتا ہے، جوتے کو کبھی سر پرنہیں رکھا جاتا۔ اسی طرح آپ کتنی بھی بلندی پر پہنچ جائیں، غرور کو خود پر حاوی نہ ہونے دیجیے، وگرنہ یہی غرور آپ کی پستی کی علامت بن جاتا ہے۔
خاکساری (’ڈاؤن ٹو ارتھ) آپ کی شخصیت میں ایسا نکھار پیدا کرتی ہے جس سے نہ صرف آپ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرتے ہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں آپ کو سراہا جاتا ہے۔
ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو مشکل کام کے آتے ہی گھبرا جاتے ہیں؟ اور انہیں یہ لگتا ہے کہ اس سے مشکل کام ہی کوئی نہیں یا اس کام کا بوجھ ہم نہیں اٹھاسکتے۔ ہر انسان مختلف وزن رکھتا ہے، کوئی 50 کلوگرام تو کوئی 60 سے 70 کلوگرام، تو کوئی پوری سینچری کرجاتا ہے۔ یعنی 100 کلو گرام اور بعض ڈبل سنچری کے لگ بھگ پہنچ جاتے ہیں یعنی 150 سے 200 کلوگرام۔ ایسے میں کون ہوتا ہے جو ہم سب کا بوجھ بہ آسانی اٹھا لیتا ہے؟ جی! وہ کوئی اور نہیں، ہمارے اپنے ہی جوتے ہوتے ہیں جو خود تو وزن میں ہلکے ہوتے ہیں لیکن بھاری سے بھاری جسم کو برداشت کرنے میں کبھی کتراتے نہیں۔
تو کیا ہم انسان اپنے جوتے سے سبق لیتے ہوئے خود پر آنے والے مشکل حالات کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے؟ بالکل اٹھاسکتے ہیں! کیونکہ اللہ ہم انسانوں پر اتنا ہی بوجھ ڈالتا ہے جتنا ہم میں اٹھانے کی سکت ہوتی ہے؛ اور کوئی بھی کام اس وقت تک ہی مشکل ہوتا ہے جب تک ہم اس پر قابو پانا سیکھ نہ لیں۔
یہ طے ہے کہ کوئی بھی کام ناممکن نہیں ہوتا۔ تو پھر ہم اس ڈر کے ساتھ کیوں زندگی گزاریں کہ ہمارے لیے فلاں کام مشکل ہے، بلکہ ہمیں چاہیے کہ خود میں یہ جستجو پیدا کریں کہ ہم ہر مشکل سے مشکل کام کا بوجھ بھی بہ آسانی اٹھالیں گے۔
تالی کبھی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، اس بات سے سب ہی سو فیصد متفق ہوں گے۔ اسی طرح دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جو اکیلا رہ سکے، کیونکہ کبھی نہ کبھی ہمیں لازماً دوسروں کا ساتھ چاہیے ہوتا ہے۔ مگر بعض لوگ اسی اکڑ میں رہتے ہیں کہ ہم اکیلے ہی سب کچھ کرسکتے ہیں۔
کبھی آپ نے ایک جوتا پہنا ہے؟ نہیں ناں! جوتے ہمیشہ جوڑی میں ہی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک جوتا کسی کام کا نہیں ہوتا۔ پھر چاہے وہ کتنا ہی مہنگا کیوں نہ ہو، اگر ایک جوتا خراب ہوجائے یا گم ہوجائے تو دوسرا جوتا خود بخود بیکار ہوجاتا ہے۔ پھر وہ ہمارے کسی کام کا نہیں رہتا۔ کبھی کوئی چور مسجد سے ایک جوتا چوری نہیں کرتا۔ ظاہر ہے ایک جوتا اس کے کس کام کا؟ وہ ہمیشہ جوڑی کی صورت میں ہی جوتے چوری کرتا ہے۔ بالکل اسی طرح اگر ہم زندگی میں کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر موڑ پر کسی نہ کسی کے ساتھ کی ضرورت پیش آتی ہے۔ مسائل کی ابتداء وہیں سے ہوتی ہے جب کوئی انسان یہ سمجھنے لگے کہ میں یہ، میں وہ، میں ایسا کرلوں گا وغیرہ۔ یعنی ’’میں، میں‘‘ کرتے اس کی زبان نہیں تھکتی۔ آپ غور کیجیے گا کہ ایسا انسان ہمیشہ دکھی ہی نظر آتا ہے کیونکہ تنہا انسان کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اگر دیکھا جائے تو ’’میں میں‘‘ کون کرتا ہے؟ جی ہاں بکری یا بکرا جسے حلال کردیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے آخر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی… لیکن ’’ہم‘‘ کو کوئی کاٹ نہیں سکتا۔ ’’ہم‘‘ متحد ہونے کی علامت ہے اور جب انسان متحد ہوجاتا ہے تو بڑے سے بڑے کٹھن مراحل میں بھی چٹان کی طرح کھڑا ہوسکتا ہے۔
جب بھی ہم نئے جوتے لیتے ہیں تو شروع میں وہ ہمیں کاٹتے ہیں یا تنگ کرتے ہیں، یا وہ سکون محسوس نہیں ہوتا جو پرانے جوتے کے پہننے سے ملتا تھا۔ لیکن آہستہ آہستہ ہمیں ان جوتوں کی عادت ہوجاتی ہے اور پھر وہ جوتا ہمیں تنگ نہیں کرتا۔ ایسے ہی جب ہم کسی نئے کام کا آغاز کرتے ہیں تواکثر اوقات ابتداء میں الجھنوں کا سامنا درکار ہوتا ہے۔ لیکن اگر ہم ہمت سے ڈٹے رہیں تو وہی الجھنیں یا پریشانیاں ہمیں کامیابی کی راہ دکھاتی ہیں۔
اگر آپ نئی جاب پر جاتے ہیں، نئے مضامین لیتے ہیں، نئے رشتے سے منسلک ہوتے ہیں، نیا کاروبار کرتے ہیں، نیا کھیل سیکھتے ہیں، غرض زندگی میں کچھ بھی نیا کام کرتے ہیں تو بے شک آغاز میں کئی مشکلات پیش آتی ہیں۔ لیکن ہمیں اس وقت ڈرنا یا گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ صبر سے کام لینا چاہیے۔ ہاں! اگر پھر بھی آپ کو محسوس ہو کہ فلاں کام آپ کے بس کی بات نہیں تو اپنا راستہ تبدیل کرلیجیے، بشرطیکہ صبر کے ساتھ آپ نے اس کام کو وقت دیا ہو۔
انسان کا اندر سے مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے، کیونکہ اگر وہ اندر سے مضبوط ہے تو اوپری پریشانی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
جب ہم کوئی جوتا خریدنے کےلیے جاتے ہیں تو سب سے پہلے کیا دیکھتے ہیں؟ یہی کہ جوتا مضبوط ہو اور کسی بھی جوتے کا بیس یعنی تلا (sole) مضبوط ہو تا ہے تو یقیناً وہ جوتا بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی ’’soul‘‘ یعنی ’’روح‘‘ کا مضبوط ہونا بے حد ضروری ہے کیونکہ اگر آپ اندر سے کمزور ہوں گے تو یہ دنیا والے کبھی آپ کو جینے نہیں دیں گے؛ لیکن ایک بار آپ خود کو مثبت رویّے کے ساتھ مضبوط بنالیں گے تو پھر یہ دنیا آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
The post جوتے سے سیکھیے appeared first on ایکسپریس اردو.
from ایکسپریس اردو http://ift.tt/2EwRi6j
No comments:
Post a Comment